2010 تک وفاق ہمیں براہ راست پیسے دیتا تھا، این ایف سی ایوارڈ نے یہ راستہ روک دیا، مصطفیٰ کمال - Pakistan Best Urdu News Blog

Breaking

BANNER 728X90

Saturday, 25 July 2026

2010 تک وفاق ہمیں براہ راست پیسے دیتا تھا، این ایف سی ایوارڈ نے یہ راستہ روک دیا، مصطفیٰ کمال

کراچی (25 جولائی 2026): وفاقی وزیر اور مرکزی رہنما ایم کیو ایم مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ 2010 تک وفاق ہمیں ڈائریکٹ ٹیکس دیتا تھا، لیکن پھر صوبوں نے وفاق کو ڈسٹرکٹ کو ڈائریکٹ ٹیکس دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ ہمیں این ایف سی لینے دیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا 2010 میں صوبوں نے وفاق کو کہا کہ ڈسٹرکٹ کو جو ٹیکس ڈائریکٹ دیا جاتا ہے، وہ آپ ہمیں این ایف سی ایوارڈ میں دے دیں، ہم اسے آگے دیں گے، لیکن اس دن سے کراچی کو اب تک وہ شیئر نہیں ملا۔

وفاقی وزیر نے کہا ہمیں 1991 تک آکٹرائے ضلع ٹیکس ملا کرتا تھا، اگر پرانا نظام ہوتا تو 2 ہزار ارب کراچی کو ڈائریکٹ ملتے، ان 18 سالوں میں کراچی کو دو ہزار ارب روپے ملنے چاہیے تھے، یہاں پر حالات اچھے ہوتے، سڑکیں بنتی، اسکول بنتے، اسپتال بنتے، جب کراچی زیادہ کماتا تو وفاق کو زیادہ پیسہ دیتا لیکن سندھ کی حکومت کراچی کو پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرنے نہیں دے رہی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا 22 ہزار ارب جو ملے ہیں اور سندھ کے اپنے رسورسز سے جو ٹیکس جمع ہوا، وہ ملا کر اس بائیس ہزار ارب میں سے کراچی کو 18 سالوں میں صرف 680 ارب روپے ملے ہیں، پیسے کما کر دینے والے شہر کو کل رقم میں سے 18 سالوں میں صرف 3 فی صد ملا۔

انھوں نے کہا کراچی بھی ترقی کر رہا تھا لیکن پیپلز پارٹی نے ترقی روک دی، اٹھارہویں ترمیم اپنی اصل حالت میں لاگو نہیں ہوئی ہے، سندھ کے کسی شہر کو اس کا حق نہیں ملا، جہاں چالیس فی صد نوکریوں کا کوٹا ہے وہاں بھی جعلی ڈومیسائل بنا کر وہ کوٹا کھا جاتے ہیں۔

ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں دوسرے شہر میں ایئر ایمبولینس چلانے کی بات کی جا رہی ہے اور ہمارے یہاں سائیکل ایمبولینس لائی جا رہی ہے، یہ زندہ انسانوں کا شہر اور صوبہ ہے، اگر یہاں کا سارا پیسہ یہاں لگتا تو پورے سندھ کو بلڈوز کر کے نیا سندھ بن سکتا تھا۔ مصطفیٰ کمال نے کہا 22 ہزار ارب اگر صوبے پر لگتا تو 50 مرتبہ نیا سندھ بنا چکے ہوتے لیکن یہ سارا پیسہ دبئی ٹرانسفر ہوتا ہے جس سے دبئی کی پراپرٹی مہنگی ہو گئی ہے۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/THU2QZs

No comments:

Post a Comment