اسلام آباد (26 جولائی 2026): وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے عالمی یومِ مینگرووز کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ درخت ساحلی علاقوں کے تحفظ کی قدرتی ڈھال ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مینگرووز ماہی گیری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور مچھلی، جھینگوں اور کیکڑوں کی افزائش گاہ ہیں۔ ان کے مطابق، یہ عام درختوں کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ کاربن جذب کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان مینگرووز کے رقبے کے لحاظ سے دنیا میں ساتویں نمبر پر ہے، اور ان کی بحالی سے پاکستان چوتھے نمبر پر آ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مینگرووز کی بحالی بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔
پنجاب سے غائب ہونے والی لاکھوں ٹن گندم کہاں گئی؟
وفاقی وزیر نے اندازہ ظاہر کیا کہ پاکستان کی مینگرووز کاربن مارکیٹ کاربن کریڈٹس کی قیمتوں اور حجم کے لحاظ سے سالانہ 2 کروڑ سے 5 کروڑ ڈالر تک آمدن پیدا کر سکتی ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان درختوں کے تحفظ کے لیے تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں تقریباً 4,058 ہیکٹر رقبے پر پھیلے مینگرووز بھی ملک کی کاربن مارکیٹ کی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور یہ خشکی کے عام درختوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ کاربن جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/xzF2SJq
No comments:
Post a Comment