لاہور: بادامی باغ میں چادر میں لپٹی نامعلوم شہری کی سر کٹی لاش کا معمہ حل ہو گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کی شناخت ہو گئی ہے، اور مرکزی ملزم کو 24 گھنٹے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایس پی انویسٹی گیشن فرحت عباس کا کہنا ہے کہ مقتول کی شناخت محمد شفیق کے نام سے ہو گئی ہے، جو نوشہرہ ورکاں گوجرانوالہ کا رہائشی تھا، مقتول کی لاش کے پاس پڑا شناختی کارڈ اس کے سوتیلے بھائی کی نکلی۔
پولیس کے مطابق مقتول کا سر دھڑ سے الگ تھا اور جسم پر تشدد کے نشانات تھے، ملزم نے محمد شفیق کو قتل کرنے کے بعد جائے وقوعہ پر پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے سوتیلے بھائی کے شناختی کارڈ کی کاپی پھینک دی تھی۔
تتلے عالی کے رہائشی محمد شفیق آرائیں کو لاہور بادامی باغ میں بے دردی سے قتل کیا گیا، ملزم نے قتل کرنے کے بعد مقتول کا سر اور اعضا کاٹ کر مریدکے جا کر پھینکے، مقتول 3 بچوں کا باپ تھا، جو لاہور میں محنت مزدوری کرتا تھا، قاتل نے لاش بوری میں بند کر کے ایک خالی پلاٹ میں پھینک دی تھی۔
ایس پی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے سوتیلے بھائی کو قتل کے مقدمے میں پھنسانا چاہتا تھا، ملزم کی نشان دہی پر مقتول کا سر اور جسمانی اعضا برآمد کر لیے گئے ہیں، مقتول کے بیٹے محمد نعمان نے مردہ خانے میں اپنے والد کی لاش کی شناخت کی۔
پولیس کے مطابق فرانزک ٹیموں اور کرائم سین یونٹ کی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اور فنگر پرنٹس اکٹھے کر لیے، لاش پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہے، ملزم کو پیشہ وارانہ مہارت اور ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے جائیداد کے حصول کے لیے سوتیلے بھائیوں پر الزام لگایا، مقتول اور ملزم آپس میں رشتہ دار تھے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/jtEOTRn

No comments:
Post a Comment