وفاقی کابینہ اجلاس: کے پی میں سیکیورٹی سے متعلق پیش کردہ رپورٹ میں کیا نشاندہی کی گئی؟ - Pakistan Best Urdu News Blog

Breaking

BANNER 728X90

Sunday, 11 October 2026

وفاقی کابینہ اجلاس: کے پی میں سیکیورٹی سے متعلق پیش کردہ رپورٹ میں کیا نشاندہی کی گئی؟

اسلام آباد (11 اکتوبر 2026): وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق رپورٹ پیش کر دی گئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں صوبہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی میں مسلسل اضافہ خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی کیلیے سنگین اور تشویشناک چیلنج بن گیا ہے۔

اجلاس میں پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران کے پی میں دہشتگرد حملوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر اور مقامی سہولت کاروں کی وجہ سے خطرات بڑھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کی ناقص پالیسی اور دہشت گردوں کیلیے نرم گوشے نے خطرات میں اضافہ کیا۔ انسداد ِدہشت گردی کے موثر اقدامات کی کمی سے دہشت گرد عناصر کو جگہ بنانے کا موقع ملا۔

رپورٹ کے مطابق صوبے میں مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک دہشت گردی میں 195 فیصد اضافہ ہوا۔ رواں سال دہشت گرد حملوں میں 73 فیصد نشانہ پولیس اور سیکیورٹی ادارے بنے۔ دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال میں تشویشناک اضافہ ہوا اور رواں سال دہشت گردوں کے ڈرون حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی ہے۔

رواں سال ستمبر تک 159 بارودی حملے ریکارڈ کیے گئے۔ دہشت گردی کے مقابلے میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی استعداد بڑھانا ناگزیر ہے۔ پورے خیبر پختونخوا کیلیے سیف سٹی منصوبہ تا حال صرف پشاور تک محدود ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کے پی پولیس میں 9000 سے زائد آسامیاں خالی ہیں۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید ہتھیاروں اور آپریشنل سامان کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر جنوبی اضلاع میں بکتر بند اور محفوظ گاڑیوں کی کمی ہے۔ جس سے پولیس کی نقل و حرکت اور آپریشنل صلاحیت متاثر ہے۔

پولیس اور سی ٹی ڈی کے پاس جدید سرویلنس اور انٹیلی جنس آلات ناکافی ہیں۔ نائٹ ویژن اور تھرمل امیجنگ آلات بھی مطلوبہ تعداد میں دستیاب نہیں۔ ضم شدہ اضلاع کی پولیس کو مطلوبہ تربیت، وسائل اور استعدادِ کار کی کمی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ خصوصی انسدادِ دہشت گردی فورس کے باوجود افرادی قوت کیلیے سی ٹی ڈی کا پولیس پر انحصار ہے۔ سی ٹی ڈی کے ضلعی دفاتر، آپریشنل سہولتیں اور انفراسٹرکچر ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔

وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیلیے مختلف تجاویز پیش



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/LIjdsl5

No comments:

Post a Comment