برسلز/واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد گروپ آف سیون (G7) ممالک جمعے کے روز ہنگامی ذخائر سے ڈیزل اور خام تیل کے 10 کروڑ بیرل جاری کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ جی سیون ممالک کے رہنماؤں نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے مربوط انداز میں اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں صدر میکرون نے بتایا کہ قیمتوں میں کمی کے لیے ریفائنریوں میں پیداوار بڑھانے کی خاطر قواعد کو مزید لچکدار بنایا جائے گا۔ آئی ای اے کی نگرانی میں شراکت دار ممالک کے تعاون سے 4 ماہ کے اندر اسٹریٹجک ذخائر سے 100 ملین بیرل تک تیل جاری کیا جائے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ جی سیون ممالک ایسے اقدامات سے گریز کریں گے جو اتحادی ممالک کے درمیان توانائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت اور تبادلے میں رکاوٹ کا باعث بن سکیں۔
امریکی صدر تیزی سے غیر مقبول ہو رہے ہیں، مزید ایک سروے کا نتیجہ آ گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان میں ڈیزل کے ذخائر مارکیٹ میں لانے پر توجہ دینے پر یورپی ممالک سے اظہار تشکر کیا ہے، اور کہا کہ یورپی ممالک کی جانب سے ڈیزل کے ذخائر مارکیٹ میں لانے کا عمل فوری شروع ہوگا۔
روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو امریکا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کر سکتا ہے، جس سے یورپ کو ڈیزل کی رسد میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، کیوں کہ یورپ کا انحصار امریکی ڈیزل پر مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں یورپی اتحاد کو بھاری معاشی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ الاباما روانہ ہونے سے قبل وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا یہ منصوبہ کبھی سنجیدگی سے زیرِ غور ہی نہیں تھا۔ حالاں کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران وہ کئی مرتبہ کہہ چکے تھے کہ ایسی پابندی کے امکان پر غور کیا جا رہا ہے اور وہ اس خیال کی حمایت کرتے ہیں۔
جی سیون نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’’پہلے ہی پورے کیے جا چکے وعدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ذریعے مربوط انداز میں 10 کروڑ بیرل جاری کر کے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کریں گے۔‘‘
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/PwItCUv
No comments:
Post a Comment