اسلام آباد (24 جولائی 2026): سپریم کورٹ نے نیب کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت نیب مقدمات سننے کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے نیب مقدمات سننے کے دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا محفوظ کیا گیا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت نیب مقدمات سننے کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہے جب کہ نیب مقدمات میں سپریم کورٹ کا اپیل سننے کا اختیار ختم ہو چکا ہے۔
جسٹس محمدعلی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا، جو 3 جولائی کو محفوظ کیا گیا۔ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔
فیصلے کے مطابق تمام زیر التوا نیب اپیلیں، لیو ٹو اپیل درخواستیں وفاقی آئینی عدالت منتقل ہوں گی۔ سپریم کورٹ نے نیب مقدمات میں دائر تمام زیر سماعت اپیلیں وفاقی آئینی عدالت منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نیب مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں بھی وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی۔ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد نیب کیسز کی اپیلیں ایف سی سی کے دائرہ اختیارمیں ہیں، جس کے بعد نیب مقدمات میں سپریم کورٹ کے پاس مزید سماعت کا اختیار نہیں رہا۔
سپریم کورٹ نے نیب ترامیم 2026، سیکشن 32 اے موثر قرار دے کر اختیار وفاقی آئینی عدالت کا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نیب مقدمات میں اب لیو ٹو اپیل نہیں بلکہ براہ راست دوسری اپیل کا حق حاصل ہے۔
نئی قانون سازی کے بعد نیب کیسز میں اپیل کا فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔ ضمانت، سزا معطلی اور دیگر ضمنی درخواستیں بھی مرکزی اپیلی فورم ہی سنے گا۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت اختیار نہ ہونے پر سپریم کورٹ فریقین کی رضامندی سے بھی یہ کیس نہیں سن سکتی۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/d9oFNJG
No comments:
Post a Comment