تہران (27 مئی 2026): ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران ایک باوقار فریم ورک کے حصول کے لیے تیار ہے۔
قطر کے امیر تميم بن حمد بن خليفہ آل ثانی سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران صدر مسعود پزشکیان نے امن کے لیے دوحہ کے تعمیری کردار اور حمایت پر قطری امیر کا شکریہ ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ سفارت کاری کے اصولوں اور معاہدوں کی روح کی پاس داری کی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ دوسرا فریق بھی اپنے قول و فعل دونوں سے بین الاقوامی وعدوں کی پاس داری کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام کے لیے واضح راستہ فراہم کرنے کے لیے دستاویزات اور متون کو حتمی شکل دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
’خطے کے ممالک سمجھتے تھے امریکا کی موجودگی سے ان کو فائدہ ہو گا‘
قبل ازیں، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بین الاقوامی انٹرنیٹ رسائی دوبارہ کھولنے کا حکم جاری کر دیا ہے، ایرانی سرکاری میڈیا نے پیر کے روز ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا، یہ اقدام امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے بعد تقریباً 90 روزہ انٹرنیٹ بندش کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
انٹرنیٹ نگرانی کے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق پیر کے روز تک بیش تر ایرانی شہری 87 دنوں سے عالمی ویب تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے تھے، جب کہ صرف چند افراد ہی مہنگے اور جدید وی پی اینز تک رسائی رکھتے تھے جو ان پابندیوں کو عبور کر سکتے ہیں۔
حکام نے ابتدا میں 8 جنوری سے ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کے ردِعمل میں انٹرنیٹ بندش نافذ کی تھی، بعد ازاں فروری میں رابطے بتدریج معمول پر آنے لگے، تاہم 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد ایک نئی بندش نافذ کر دی گئی۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/m2Vuw4q
No comments:
Post a Comment