اسلام آباد (31 مارچ 2026): اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقیوں سے متعلق دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے ترقیوں میں نظر انداز کرنے اور التوا کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے چار صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو درخواست گزاروں کے کیسز دوبارہ محکمانہ انتخابی بورڈ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ محکمانہ انتخابی بورڈ سول سرونٹ پروموشن رولز 2019 کے قاعدہ 18 کے تحت ازسرِنو جائزہ لے اور ہر افسر کا آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تجزیہ کرے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ بورڈ ممبران کسی بھی بیرونی مواد، ذاتی معلومات یا غیر متعلقہ آرا پر انحصار نہیں کریں گے، جب کہ کسی افسر کی دیانت داری پر سوال اٹھانے کی صورت میں ٹھوس اور تحریری ثبوت فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
بجلی صارفین کے لیے تشویش ناک خبر، نیپرا کے اقدام سے بل اچانک کئی گنا بڑھ گئے
عدالت نے مزید حکم دیا کہ اگر کسی افسر کی ترقی روکی یا ملتوی کی جائے تو اس کی واضح، مخصوص اور معقول وجوہ ریکارڈ کا حصہ بنائی جائیں۔
فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ رازداری کا جواز پیش کر کے درخواست گزاروں کو اجلاس کی کارروائی یا متعلقہ ریکارڈ تک رسائی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/gVKIQAJ
No comments:
Post a Comment