نئی دہلی (19 فروری 2026): بل گیٹس نے انڈیا اے آئی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد بھارتی نمائش میں پیدا ہونے والی بدنظمی عروج پر پہنچ گئی ہے۔
روئٹرز کے مطابق بل گیٹس نے جمعرات کو اپنے طے شدہ کلیدی خطاب سے چند گھنٹے قبل بھارت کی اے آئی امپیکٹ سمٹ میں شرکت سے دست برداری اختیار کر لی، جس سے اس اہم تقریب کو ایک اور دھچکا پہنچا ہے۔
یہ تقریب پہلے ہی شدید بد انتظامی، ایک روبوٹ تنازعے اور ٹریفک کی بندشوں پر مندوبین کی شکایات کے باعث تنقید کی زد میں تھی۔ بل گیٹس کے خطاب سے انکار اور اس کے بعد جینسن ہوانگ کی جانب سے بھی اعلیٰ سطحی شرکت منسوخ کیے جانے سے، اس سمٹ کا آغاز مزید مشکل ہو گیا ہے۔
اس کانفرنس کو گلوبل ساؤتھ میں مصنوعی ذہانت پر پہلی بڑی بین الاقوامی نشست قرار دیا جا رہا تھا، جہاں بھارت نے عالمی اے آئی حکمرانی میں خود کو ایک نمایاں آواز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن اب مودی حکومت کی یہ کوش بد انتظامی اور تنازعات کی ںذر ہو گئی ہے۔
چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد بتانا مہنگا پڑگیا، بھارت کو اے آئی سمٹ میں سُبکی کا سامنا
ایکس پر پوسٹ میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے کہا کہ بل گیٹس اپنا خطاب اس لیے نہیں کریں گے تاکہ ’’توجہ اے آئی سمٹ کی بنیادی ترجیحات پر مرکوز رہے۔‘‘ چند روز قبل ہی فاؤنڈیشن نے ان کی عدم شرکت کی افواہوں کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ شرکت کے لیے تیار ہیں۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو اجلاس سے خطاب کیا تھا، اس موقع پر ان کے ہمراہ فرانس کے صدر امانویل میکرون، گوگل کے سی ای او سندر پچائی، اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمین اور اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈی بھی موجود تھے۔ تاہم بھارت کی پہلی بڑی اے آئی سمٹ بدانتظامی کے باعث تنقید کی زد میں رہی، جس نے شرکا کو حیران اور ناراض کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مناسب منصوبہ بندی کا فقدان تھا۔
افراتفری اور ٹریفک جام
جمعرات کو نمائش ہالز کو اچانک عوام کے لیے بند کر دیا گیا، جس سے ان کمپنیوں میں مزید ناراضی پھیل گئی جنھوں نے اسٹالز اور پویلین قائم کیے تھے۔ تین روزہ بڑے ہجوم کے بعد ایکسپو ویران نظر آیا۔
بدھ کے روز بھارتی یونیورسٹی گالگوٹیاز کو اپنا اسٹال خالی کرنے کا حکم دیا گیا جب اس کے ایک عملے نے چین میں تیار کردہ تجارتی روبوٹک کتے کو اپنی تخلیق کے طور پر پیش کیا، جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
پولیس نے وی آئی پی شخصیات کی آمد و رفت کو ترجیح دینے کے لیے سڑکیں بند کر دیں، جس سے دو کروڑ آبادی والے شہر دہلی میں شدید افراتفری پھیل گئی۔ بدھ کو سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ متعدد شرکا مرکزی دہلی میں کئی میل پیدل چلنے پر مجبور ہوئے کیوں کہ سڑکیں بند تھیں، ٹیکسیاں دستیاب نہیں تھیں اور شٹل سروس کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا۔
ایسی ہی ایک ویڈیو کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما ماہوا موئترا نے ایکس پر لکھا کہ ناقص انتظامات نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم اس کے باوجود سمٹ کے دوران بھارت میں اے آئی منصوبوں کے لیے 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے وعدے کیے گئے ہیں، جن میں اڈانی گروپ، ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسوفٹ اور ڈیٹا سینٹر کمپنی یوٹا شامل ہیں۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/zoOXl5C
No comments:
Post a Comment