سانگھڑ: صوبہ سندھ کے شہر ٹنڈو آدم میں سرکاری اسپتال نے بچی کے پوسٹ مارٹم کے لیے والدین سے طبی سامان باہر سے لانے کا مطالبہ کر دیا۔
ٹنڈو آدم میں لاپتا 5 سالہ بچی کی لاش ملی تھی، جس کے بعد اس کے پوسٹ مارٹم کا معاملہ درپیش ہے، تاہم انکشاف ہوا ہے کہ بچی کی لاش کے پوسٹ مارٹم کے لیے سرکاری اسپتال میں ضروری سامان ہی موجود نہیں ہے۔
سرکاری اسپتال کی انتظامیہ نے پوسٹ مارٹم کے لیے طبی سامان اور دوائیں باہر سے منگوانے کی پرچی والدین کو تھما دی، اسپتال کی بد انتظامی اور ڈاکٹروں کی عدم توجہی کے مظاہرے پر بچی کے ورثا مشتعل ہو گئے اور انھوں نے احتجاج شروع کر دیا۔
تھانوں میں غیر حاضری اور بغیر وردی ڈیوٹی کرنے والے اہلکاروں کیخلاف وزیر داخلہ سندھ کا ایکشن
مشتعل مظاہرین کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کئی گھنٹے گزرنے کے بعد لیڈی ڈاکٹر اسپتال پہنچی تھی، اور پھر طبی سامان باہر سے منگوانے کا کہہ رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ لاکھوں روپے کے فنڈز کے باوجود اسپتال میں پوسٹ مارٹم کا سامان کیوں نہیں ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ حکام واقعے کا نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں۔ واضح رہے بچی کی لاش پرانے تبلیغی مرکز کے قریب سے برآمد ہوئی تھی، والد کا کہنا تھا کہ بیٹی ان کے ساتھ پرانے تبلیغی مرکز نماز پڑھنے گئی تھی اور وہاں لاپتا ہو گئی تھی۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/vuPqI0i
No comments:
Post a Comment