مودی کی حمایت میں مضحکہ خیز بیان دینے پر انوپما کی ٹرولنگ - Pakistan Best Urdu News Blog

Breaking

BANNER 728X90

Friday, 7 August 2026

مودی کی حمایت میں مضحکہ خیز بیان دینے پر انوپما کی ٹرولنگ

نئی دہلی(7 اگست 2026): مشہور ٹی وی ڈرامے ’انوپما‘ کی مرکزی اداکارہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رہنما روپالی گنگولی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد شدید تنازع کا مرکز بن گئی ہیں۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں مبینہ طور پر ایک کم عمر لڑکی وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کرتی دکھائی دی۔

اس ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاہم اسی ویڈیو پر ردِعمل دیتے ہوئے روپالی گنگولی نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’وزیر اعظم کی اس طرح توہین کے نتائج ہونے چاہئیں!!! کاش وہ آمر ہوتے!!!‘‘۔

اداکارہ و بی جے پی کی رہنما کے اس مختصر تبصرے نے دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی اور ہزاروں صارفین نے اس پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا۔

اداکارہ کے اس بیان کے بعد متعدد سوشل میڈیا صارفین نے ان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور کسی عوامی شخصیت کی جانب سے آمریت کی خواہش کا اظہار کرنا ہرگز مناسب نہیں۔

کئی صارفین نے لکھا کہ اختلافِ رائے اور تنقید جمہوریت کا بنیادی حصہ ہیں، جبکہ کچھ نے تاریخی آمروں کا حوالہ دیتے ہوئے اداکارہ کے الفاظ کو انتہائی نامناسب قرار دیا۔

دوسری جانب، بعض صارفین نے روپالی گنگولی کی حمایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی منتخب وزیر اعظم کی توہین کی جائے تو اس پر سخت کارروائی ہونی چاہیے اور اداکارہ کا اصل مقصد قانون شکنی اور توہین کے خلاف سخت قانونی عمل کی بات کرنا تھا، نہ کہ آمریت کی باقاعدہ حمایت۔

واضح رہے کہ روپالی گنگولی گزشتہ برس بی جے پی میں شامل ہوئی تھیں اور اس کے بعد سے وہ مختلف سیاسی اور سماجی معاملات پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

اس سے قبل بھی وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے حق میں بیانات اور بعض ناقدین کے خلاف اپنے سخت تبصروں کی وجہ سے خبروں میں رہ چکی ہیں۔ تازہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مختلف سیاسی اور سماجی معاملات پر سوشل میڈیا کا کردار مسلسل زیر بحث ہے۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/3HUFu7a

No comments:

Post a Comment