واشنگٹن (16 جولائی 2026): امریکی محکمۂ خارجہ نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے سعودی عرب کی فضائی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 1.96 ارب امریکی ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
محکمۂ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ’’یہ مجوزہ فروخت امریکا کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کے مطابق ہے، کیوں کہ اس سے نیٹو سے باہر امریکا کے ایک اہم اتحادی کی سلامتی بہتر ہوگی، جو خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔‘‘
سعودی عرب نے زیادہ سے زیادہ دس ہزار (10,000) ایڈوانسڈ پریسیژن کِل ویپن سسٹم (APKWS-II) کے فضا سے فضا میں مار کرنے والے رہنمائی یونٹس، اور زیادہ سے زیادہ دس ہزار (10,000) فضا سے زمین پر حملے کے لیے APKWS-II رہنمائی یونٹس خریدنے کی درخواست کی ہے۔
اس معاہدے میں درج ذیل دفاعی سازوسامان بھی شامل ہوگا: LAU-131 A/A لانچرز، Mk-152 ہائی ایکسپلوسیو وارہیڈز، MK66 راکٹ موٹرز، پراکسیمیٹی فیوز، WTU-1/B تربیتی وارہیڈز، MK66 راکٹ موٹرز، آزمائشی معاونتی آلات، لانچ اور استعمال کا سازوسامان، اضافی اور مرمتی پرزے، مطبوعات اور تکنیکی دستاویزات، عملے کی تربیت، تربیتی اور معاونتی آلات، دیگر معاونتی سازوسامان، نقل و حمل، امریکی حکومت اور کنٹریکٹرز کی جانب سے انجینئرنگ، تکنیکی اور لاجسٹک معاونتی خدمات، اور پروگرام سے متعلق دیگر لاجسٹک سہولیات۔
بحری ناکہ بندی: ایران جانے والے خالی آئل ٹینکر کو امریکی طیارے نے میزائل داغ کر ناکارہ بنا دیا
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق اس پیکیج میں لانچر، وارہیڈز، راکٹ موٹرز، فیوز، اضافی اور مرمتی پرزے، تکنیکی دستاویزات، تربیتی آلات اور لاجسٹک معاونت کی خدمات بھی شامل ہیں۔
محکمۂ خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا مرکزی ٹھیکیدار بی اے ای سسٹمز ہوگا، جو نیشوا، نیو ہیمپشائر میں قائم ہے۔ امریکی محکمے نے کہا کہ اس فروخت سے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہو جائے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ پیر کے روز حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہر ابہا کے ہوائی اڈے پر میزائل حملے کیے تھے۔
حوثیوں کا یہ حملہ اس واقعے کے بعد ہوا، جس میں یمنی حکومت نے صنعا ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا تاکہ ایران کے سپریم لیڈر کی آخری رسومات سے واپس آنے والی ایک پرواز، جس میں حوثی وفد سوار تھا، کا رخ موڑا جا سکے۔ حوثیوں نے اس حملے کا ذمہ دار سعودی عرب کو قرار دیا۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/FJ8chgd
No comments:
Post a Comment