واشنگٹن (14 اپریل 2026): امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ جاری بات چیت میں سب کچھ خراب نہیں ہوا، تاہم تہران کے اقدامات واشنگٹن کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔
انھوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے دوران کچھ حد تک آگے بڑھا ہے، لیکن بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق امریکا نے تہران کے ساتھ بات چیت میں اپنی ’’ریڈ لائن‘‘ واضح کر دی ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش سے باز رہنا ہوگا اور ایرانی فریق کو اپنے ملک سے جوہری مواد ہٹانے کی شرط سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران سے ہونے والی بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے اور آئندہ مذاکرات کا انحصار تہران کے رویے پر ہوگا۔
امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان
امریکی نائب صدر کے مطابق ایران کے اقدامات خطے میں استحکام کے لیے ناکافی ہیں اور واشنگٹن کو ایران کے جوہری پروگرام پر شدید تحفظات ہیں۔ انھوں نے ایران پر ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ ایران آبنائے ہرمز کی صورت حال میں بہتری لانے کے لیے پیش رفت کرے گا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ بھی اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، تاہم مذاکراتی مقام کے لیے دوسرا آپشن عمان یا پھر مشرق وسطیٰ کا کوئی اور ملک بھی ہو سکتا ہے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/6TaevXE
No comments:
Post a Comment