(8 فروری 2026): واشنگٹن پوسٹ کے سی ای او اور پبلشر ول لوئس نے اپنے عہدے سے اچانک استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اخبار شدید مالی خسارے اور اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق ول لوئس کے استعفیٰ کی بڑی وجہ ان کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے کچھ سخت فیصلے بتائے جا رہے ہیں۔ استعفیٰ سے چند روز قبل انہوں نے اخبار کے عملے میں سے تقریباً 300 صحافیوں اور ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر ادارے کے اندر شدید احتجاج کیا گیا۔
اس کے علاوہ، جب عملے کو برطرف کیا جا رہا تھا، ول لوئس کی ایک غیر متعلقہ پرتعیش تقریب میں شرکت نے ملازمین کے غصے کو مزید بڑھا دیا، اخبار کے مالک جیف بزوس نے ول لوئس کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے اور ان کی جگہ جیف ڈی اونوفریو کو قائم مقام سی ای او مقرر کر دیا گیا ہے۔
ول لوئس نے اپنے الوداعی بیان میں کہا کہ انہوں نے ادارے کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے مشکل فیصلے کیے اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے جانے کا وقت آگیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی یونین نے اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نئی قیادت صحافیوں کے حقوق اور ادارے کے وقار کا بہتر تحفظ کرے گی۔ ول لوئس کا دور تقریباً دو سال رہا جس کے دوران اخبار کو 100 ملین ڈالر کے قریب مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/9CsSavK
No comments:
Post a Comment