جنیوا (5 فروری 2026): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کی ہر شکل کی سخت مذمت کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے پاکستان کے مستقبل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی سے عالمی امن کو لاحق خطرات سے متعلق پاکستان کا موقف پیش کیا اور کہا کہ عالمی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کیلیے پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی سخت مذمت کرتا ہے اور پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلیے کثیرالجہتی تعاون جاری رکھے گا۔
عاصم افتخار نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں میں 90 ہزار سے زائد جانوں کا نقصان اور بھاری معاشی خسارہ شامل ہے۔ القاعدہ کی مرکزی قیادت کو افغانستان میں ناکارہ بنانے میں پاکستان کی کوششوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا، جب کہ پاکستان خطے میں داعش خراسان کے خلاف کامیاب کارروائیوں میں بھی قائدانہ کردار ادا کرتا رہا ہے۔
پاکستانی مستقل مندوب نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو نئی زندگی مل گئی ہے۔ خصوصاً کابل میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان بیرونی پراکسیز کو نئی زندگی ملی ہے، کیونکہ ان گروہوں کو افغان سرزمین سے مکمل استثنیٰ اور مشرقی ہمسائے کی حمایت حاصل ہے اور یہی گروہ بلوچستان میں متعدد مقامات پر دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ داعش کا خطرہ افریقہ اور جنوبی ایشیا سمیت کئی خطوں میں بڑھ رہا ہے۔ داعش آن لائن بھرتی، کرپٹو کرنسی اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے جب کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کیلیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ افغان سرزمین سے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروہ بلا خوف سرگرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چھوڑے گئے جدید ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ ہے۔ دہشت گرد گروہوں کے سر پرستوں اور مالی معاونین کا احتساب ضروری ہے۔ انسدادِ دہشت گردی نظام کو منصفانہ اور غیر جانبدار بنانا ہوگا۔ انتہا پسند دائیں بازو اور اسلامو فوبک نظریات کو بھی خطرہ تسلیم کیا جائے جب کہ سلامتی کونسل کالعدم بی ایل اے کو 1267 پابندیوں کی فہرست میں شامل کرے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر عالمی فورم پر اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں ریاستی جبر کی کھلی مثالیں موجود ہیں۔ ریاستی دہشت گردی کسی صورت قابل قبول نہیں اور غیر ملکی قبضے کے خلاف جدوجہد کو دہشت گردی سے نہ جوڑا جائے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/IUbjTWa
No comments:
Post a Comment